مزاج و روح فسردہ ہیں، من سنورتا نئیں
خوشی کا سِج مِرے آنگن سے اب اُبھرتا نئیں
گئے دنوں کو بُھلانے کی کوششوں کے عوض
تِری گلی سے میں بُھولے سے بھی گزرتا نئیں
تُو خوش رہے، تِری دنیا میں رونقیں ہوں سدا
دعائیں حق ہیں میں ان سے کبھی مُکرتا نئیں
"وہ نام پڑھ کے مِرا فون کاٹ دیتی ہے"
مِرے تو حلق سے کڑوا یہ گھونٹ اُترتا نئیں
یہ آب و گل یہ ہوا سب ہیں باسی گاؤں کے
ہو کھوٹ من میں کسی کے وہ یاں ٹھہرتا نئیں
ہنسی لبوں پہ سجی ہے، اگر یہ سچی ہے
تو پھر کسی سے کوئی بات کیوں تُو کرتا نئیں
ہوئی ہے مات تجھے ہر طرف سے دھوکے ملے
مَرے گا اب کے تُو کاشف اگر سُدھرتا نئیں
کاشف رانا
No comments:
Post a Comment