پوچھیۓ نہ یہ ہم سے بتکدے میں کیا پایا
جب صنم کو پوجا ہے، تب کہیں خدا پایا
سربلند میرا بھی، ہو گیا زمانے میں
نقش پائے جاناں پر جب اُسے جھکا پایا
خون میری آنکھوں نے بارہا بہایا ہے
بارِ غم محبت میں، دل کہاں اٹھا لایا
زندگی! رفاقت کا کھل گیا بھرم تیری
جب چمن میں خوشبو کو پھول سے جُدا پایا
داستاں گلستاں کی، کہہ رہی تھی خاموشی
عندلیب گلشن کو ہم نے بے نوا پایا
میکدے کی راہوں میں پھونک کر قدم رکھنا
تیز گام رندوں کو راہ میں گرا پایا
آئینے ہزاروں ہیں عکس ایک ہے اُس کا
ہم نے کل عناصر میں جلوۂ خدا پایا
عشق نے متین اپنا معجزہ دکھایا ہے
جذبۂ محبت سے حسن کا پتا پایا
متین امروہوی
No comments:
Post a Comment