Thursday, 14 October 2021

بچے تھے اور چھپن چھپائی کھیل رہے تھے

 امریکی ڈرون حملے


بچے تھے

اور چھپن چھپائی کھیل رہے تھے

بہنیں تھیں

اور ندیا سے ڈھوتی تھیں پانی

اماں کھانا پکا رہی تھیں

باپ اور بھائی مسجد سے لوٹے ہی تھے کہ

اتنے میں گونجا اک کڑکا

بجلی چمکی شعلہ بھڑکا

دور کہیں سکرین پہ بیٹھا

بربطِ قیصر کا سازندہ

جنگِ صلیب کا اک کارندہ

اپنے ہاتھوں کے کرتب سے

خونی داؤ کھیل چکا تھا

دجالی آتشدانوں سے

آگ کا گولہ ریل چکا تھا

مٹی تنکوں کے چھپڑ کو

لمحے بھر میں ٹھیل چکا تھا

اب ملبے کے ان ڈھیروں میں

کھیل نہیں تھا

ڈول نہیں تھے

اللہ ہُو کے بول نہیں تھے

لہو رسیدہ بدن دریدہ

پھول پراندے بکھر چکے تھے

غنچے کھل کر نکھر چکے تھے

دور کہیں سکرین پہ بیٹھا

بربطِ قیصر کا سازندہ

نشے میں دُھت ایک درندہ

بازی اپنی جیت چکا تھا

دوزخ جنت کی تقسیم کا 

نازک لمحہ بیت چکا تھا

مانتے ہیں سب

ڈرون غصب ہیں

پر کچھ ناداں یہ کہتے ہیں

اس غم کا چند لوگ سبب ہیں

سوچتا ہوں یہ لوگ عجب ہیں

کیا ان کو معلوم نہیں ہے

یہ پروازیں خود شاہد ہیں

نیچے خاک نشینوں میں یاں

کچھ اہلِ ایمان رہتے ہیں

امت کے زخموں کو یہ سب

اپنے سینوں پر سہتے ہیں

سو دھرتی کے آنگن میں جب

دین کے پہرے دار نہ ہوں گے

فضا سے ڈرون کے وار نہ ہوں گے

خوف و خطر آزار نہ ہوں گے

نہ ہی لوگ یہ کڑھتے ہوں گے

لیکن دھرتی کے آنگن میں

علم صلیبی اڑتے ہوں گے


احسن عزیز مرزا

No comments:

Post a Comment