پھول توڑے تھے کچھ بہاروں میں
خامشِ نوکِ خار باقی ہـے
اے مہکتے ہوئے لبو! آؤ
میرے ہونٹوں میں پیار باقی ہے
ہے قسم اس ملیح چہرے کی
میرے دل میں نکھار باقی ہے
کاروانوں کو ڈھونڈنے والا
ایـک اڑتا غبار باقـی ہـے
تم کو دیکھا، ہنسا، پر آنکھوں میں
اشکِ بے اختیار باقی ہے
اب وہ راتیں کہاں ایاز مگر
یادِ گیسوئے یار باقـی ہے
شیخ ایاز
سندھی شاعری سے اردو ترجمہ
No comments:
Post a Comment