Tuesday, 22 March 2022

نفع کی امید کیا اب کیا خسارہ دیکھنا

 اک سمندر ہے کہ میرے پیچھے پیچھے آ گیا

خواب رفتہ سے کہر پہلے کنارہ دیکھنا 

ایک لمحے میں وہ نقد جان و دل لے کر گیا

نفع کی امید کیا، اب کیا خسارہ دیکھنا

سورجوں کی شوخ کرنیں اوڑھ کے نکلی ہوں میں

کون سا لازم ہے اب اس کا اشارہ دیکھنا


پروین راجہ

No comments:

Post a Comment