کیمرے بھی نصب ہوتے ہیں در و دیوار میں
گھر کی باتیں بیٹھ کر کرتے نہيں بازار میں
یہ گلی میں خون کیسا ہے یہ شانے کس کے ہیں
کیا کسی نے سر ہلایا تھا یہاں انکار میں
کیا خبر، کب کون کس کو چھوڑ کر چلتا بنے
کون آ کر بیٹھ جائے، کون سی سرکار میں
ان کماں داروں کا کوئی دِین اور ایمان ہے
مسجدوں میں اور کچھ ہیں، اور کچھ دربار میں
دوستوں سے اس جگہ کیسے کوئی شکوہ کرے
پھینک دیتے ہوں جہاں بھائی بھی اندھے غار میں
صاف لکھا ہے کہ ہم دونوں جُدا ہو جائیں گے
کل کی خبریں پڑھ رہا ہوں آج کے اخبار میں
اس لیے تھوڑے بہت مشہور اور مغرور ہیں
ہم کبھی حاضر نہيں ہوتے کسی دربار میں
مختلف ہونا ہے تو بازار سے باہر نکل
دب کے رہ جائے گا ورنہ ایک دن انبار میں
عمران عامی
No comments:
Post a Comment