اور تو کچھ بھی نہیں ایسا ہماری جیب میں
ہاں تمہیں مل جائے گی دنیا ہماری جیب میں
نقرئی جھلمل ستارہ، سبز موتی، سرخ پھول
کیا بتائیں اور ہے کیا کیا ہماری جیب میں
اس میں رکھ لیتے ہیں یاروں کی رقابت کے ثبوت
ایک خانہ ہے بہت گہرا ہماری جیب میں
اب تو اس میں ہے تِری تصویراور تیرے خطوط
تجھ سے پہلے بھی بہت کچھ تھا ہماری جیب میں
کیا ملا ہے سچ بتا سچی محبت کے سوا
تو نے جب بھی جھانک کر دیکھا ہماری جیب میں
ہاتھ آئی ایک مٹھی ریت وحشت کے عوض
اب سمجھتے ہیں کہ ہے صحرا ہماری جیب میں
ریزگاری، کار کی چابی، کوئی تازہ غزل
اور کیا ہو گا یہی ہو گا ہماری جیب میں
ہم نے جب رومال رکھا اس کے آنسو پونچھ کر
یوں ہوا بہنے لگا دریا ہماری جیب میں
کیوں ہماری جیب پر ہے ٹکٹکی باندھی ہوئی
کچھ نہیں تیری ضرورت کا ہماری جیب میں
شکر ہے صبر و قناعت کے تناسب سے ہے ٹھیک
کچھ زیادہ ہے کہ ہے تھوڑا ہماری جیب میں
گفتگو اس نے اچانک روک دی عاصم تمام
اور لکھ کر فیصلہ رکھا ہماری جیب میں
صباحت عاصم واسطی
No comments:
Post a Comment