Sunday, 6 March 2022

دوڑیں لگی ہوئی ہیں عبادات کی طرف

 دوڑیں لگی ہوئی ہیں عبادات کی طرف

سب کی نظر ہے اپنے مفادات کی طرف

مجھ کو پتہ ہے چپ کے خسارے تو ہیں مگر

کیسے گھسیٹ لاؤں اسے بات کی طرف

دیکھا، حسین شخص نے نقصان کر دیا

کس نے کہا تھا؛ جا تُو فسادات کی طرف

عادات سر کے ساتھ ہی جاتی ہیں میری جان

آخر پلٹنا پڑتا ہے عادات کی طرف

بے چینیاں، مصیبتیں، وحشت، اذیتیں

اک دن چلو گے تم بھی مکافات کی طرف

خود سر اٹھا کے چلنے کے قابل نہیں ہوئے

انگلی اٹھا رہے ہیں مِری ذات کی طرف

بے حرمتی کسی کی ہو، دکھ مجھ کو ہوتا ہے

میرا خیال جاتا ہے سادات کی طرف


صباحت عروج

No comments:

Post a Comment