ایسا نہ ہو مر جاؤں کہیں پیاس بجھا دے
اے دوست! ذرا ریت پہ ایڑی تو گھما دے
بیٹھا ہوں کچھ اس طرح کسی سُونی سڑک پر
جس طرح کوئی آخری موقع بھی گنوا دے
اک پل کو تِرے وصل کی راحت ہو میسر
اک عمر تِرا ہجر مِرے نقش مٹا دے
کَھلتا ہے سفر اور بھٹکتے ہیں مسافر
کچھ دیر منڈیروں پہ چراغوں کو جلا دے
پہلے ہی میرا مجھ سے علاقہ نہیں کوئی
اس آگ کو بجھنے بھی دے،, مت اور ہوا دے
اس واسطے میں تجھ سے مِرا دکھ نہیں کہتا
تُو میری اذیت کو ہنسی میں نہ اڑا دے
ان بپھری ہوئی لہروں سے لڑنے دے مجھے بھی
ما بعد اگر چاہے تو ناؤ سے گرا دے
ممکن ہے پرندے کریں پرواز فلک تک
اک بوڑھا شجر دل سے اگر ان کو دعا دے
حاسد کی نظر ذہن ہی کر جائے نہ بنجر
دو چار مِرے شعر کوئی مجھ کو سنا دے
اب صبر مِرے سینے پہ خنجر سے کرے وار
اور زخمِ نہاں کھول کے دنیا کو دکھا دے
تنقید میں تخریب کی صورت بھی ہے ارشاد
آنکھوں پہ ہے جو پردہ پڑا اس کو ہٹا دے
ارشاد نیازی
No comments:
Post a Comment