بھوکا رکھے گا کب وہ ہمیں آسمان میں
دیتا ہے رزق کیڑے کو جو رب چٹان میں
بچوں کی جان جائے گی ہرنی کے ساتھ ساتھ
کب سوچتے ہیں بیٹھے شکاری مچان میں
دشمن تھا پھر بھی ہم سے نہ کھینچی گئی کمان
باقی تھے تیر گرچہ ہماری کمان میں
رنگت ہے اس کی ایسی کہ پریوں کو رشک آئے
گوندھا ہو دودھ جیسے کسی نے ہی دھان میں
بیٹھے ہیں کچھ درندے بھی پیڑوں کی اوٹ میں
آہو بھی محو رقص ہیں اپنے ہی دھیان میں
کپڑا نہ لے سکا تھا وہ بیٹی کے واسطے
نظریں گڑی ہوئی ہیں مگر اب بھی تھان میں
آئیں گی تتلیاں بھی کہاں صحن میں حنیف
سوکھے پڑے ہیں پھول بھی اب مرتبان میں
حنیف دیپ
No comments:
Post a Comment