Sunday, 6 March 2022

بھوکا رکھے گا کب وہ ہمیں آسمان میں

 بھوکا رکھے گا کب وہ ہمیں آسمان میں

دیتا ہے رزق کیڑے کو جو رب چٹان میں

بچوں کی جان جائے گی ہرنی کے ساتھ ساتھ

کب سوچتے ہیں بیٹھے شکاری مچان میں

دشمن تھا پھر بھی ہم سے نہ کھینچی گئی کمان

باقی تھے تیر گرچہ ہماری کمان میں

رنگت ہے اس کی ایسی کہ پریوں کو رشک آئے

گوندھا ہو دودھ جیسے کسی نے ہی دھان میں

بیٹھے ہیں کچھ درندے بھی پیڑوں کی اوٹ میں

آہو بھی محو رقص ہیں اپنے ہی دھیان میں

کپڑا نہ لے سکا تھا وہ بیٹی کے واسطے

نظریں گڑی ہوئی ہیں مگر اب بھی تھان میں

آئیں گی تتلیاں بھی کہاں صحن میں حنیف

سوکھے پڑے ہیں پھول بھی اب مرتبان میں


حنیف دیپ

No comments:

Post a Comment