یہ غم سارے مِرے ہی واسطے تھے
اماوس میں ڈھکے سب راستے تھے
ملا آنکھوں کو اشکوں کا سمندر
غمِ جاناں کے بھی کچھ فائدے تھے
چلوں کیسے وفا کے راستوں پہ
قدم ہر اک قدم پہ حادثے تھے
وہ دھڑکن میں رہا غزلوں کی مانند
حقیقیت میں درازی فاصلے تھے
مِرے حصے میں رسوائیاں جو آئیں
مِرے دشمن یہی تو چاہتے تھے
مِرے غم سے وہ غمگین ہو نہ جائے
چھپانے کے الگ ہی قاعدے تھے
تِرے حُسنٍ کریمی کی عطا تھی
محبت کے دریا ہر سُو بہتے تھے
انہیں خوشیوں کا عہدِ نو مبارک
ہجر کے غم ہمارے واسطے تھے
بظاہر اک نظر کا جرم تھا یہ
ازل سے ہی دلوں کے رابطے تھے
سحر! کو کیا خبر اسرارِ الفت؟
شبِ فُرقت کے اپنے ضابطے تھے
عفراء بتول سحر
No comments:
Post a Comment