Friday, 18 March 2022

حسن خود جلوہ نمائی پہ ہے مجبور میاں

 حسن خود جلوہ نمائی پہ ہے مجبور میاں

جانئے عشق کو ایک مجرم معذور میاں

قرب گر اور نہ بڑھ جائے تو میرا ذمہ

کھینچ کر دیکھیے اپنے کو ذرا دور میاں

مل رہی ہے ہمیں قسمت سے وہ صہبا کہ جسے

پی کے ہوتا نہیں کوئی بھی مخمور میاں

اپنی راتوں کو جو بیدار رکھا کرتے ہیں

ان کی بیداری کو درکار ہے اک صور میاں

عشق وہ نار کہ دیکھے سے دکھائی نہ پڑے

حسن وہ نور کہ رہتا نہیں مستور میاں

احترام گل و لالہ بسر و چشم مگر

بچیں کانٹوں سے یہ اپنا نہیں دستور میاں

تم جب آتے ہو تو کچھ ایسا لگا کرتا ہے

جیسے جنت سے اتر آئی ہو اک حور میاں

ہم نے سو بار بسایا اسے امیدوں سے

دل وہ بستی ہے جو رہتی نہیں معمور میاں

دار پر چڑھنے کی طاقت نہیں عرشی میں ابھی

سر سے پا تک ہے شکستوں سے بدن چور میاں


امتیاز علی عرشی

No comments:

Post a Comment