آشیانۂ الفت
محبت
بے قراروں کا قرار
دلفگاروں کی دوا
مشقتوں کا ثمر
تنکا تنکا جوڑ کر
دو پیار بھری چڑیوں نے
گھاس پھوس اکٹھا کر کے
شب و روز کی محنت سے
شجر کی شاخوں پہ، محبت کے
ہلکوروں سے زندگی کی
نمو پاتا اک آشیانہ بنایا
جس کے آگے “تاج محل“ کی
شان و شوکت ہیچ ہے، جو رعایا کے
خون پسینے سے بنا جابر حکمرانوں کے
جذبۂ انانیت کی تسکین کا مظہر
یہ تنکوں کا نشیمن
خالص محبت کے جذبۂ شوق کی علامت
دو پردیسی، جنہیں شدت الفت کے
تحائف، انڈوں اور بچوں کی صورت
فطرت نے عطا کرنا تھے
ایک معینہ مدت تک اس میں قیام کے بعد ہجرت کر گئے
یہ آشیانۂ الفت جس کا اب نہ کوئی مالک
نہ وراثت، نہ کرایہ نامہ، نہ کرایہ دار
نہ وثیقہ، نہ بیعانہ، نہ پٹوار
نہ ٹھیکیدار، نہ خسرہ، نہ انتقال
نہ پراپرٹی ٹیکس، نہ ڈیلر، نہ دلال
بس ایک ہی خطر
کبھی کبھی بد معاش کالا کوا
آ کے انڈے پی جاتا ہے
کاش معصوم چڑیاں بھی
اپنی حفاظت کے لیے
گن مین رکھ سکتیں
قیصر اقبال
No comments:
Post a Comment