Friday, 18 March 2022

محبت بے قراروں کا قرار

 آشیانۂ الفت


محبت

بے قراروں کا قرار

دلفگاروں کی دوا

مشقتوں کا ثمر

تنکا تنکا جوڑ کر

دو پیار بھری چڑیوں نے

گھاس پھوس اکٹھا کر کے

شب و روز کی محنت سے

شجر کی شاخوں پہ، محبت کے

ہلکوروں سے زندگی کی

نمو پاتا اک آشیانہ بنایا

جس کے آگے “تاج محل“ کی

شان و شوکت ہیچ ہے، جو رعایا کے

خون پسینے سے بنا جابر حکمرانوں کے

جذبۂ انانیت کی تسکین کا مظہر

یہ تنکوں کا نشیمن

خالص محبت کے جذبۂ شوق کی علامت

دو پردیسی، جنہیں شدت الفت کے

تحائف، انڈوں اور بچوں کی صورت

فطرت نے عطا کرنا تھے

ایک معینہ مدت تک اس میں قیام کے بعد ہجرت کر گئے

یہ آشیانۂ الفت جس کا اب نہ کوئی مالک

نہ وراثت، نہ کرایہ نامہ، نہ کرایہ دار

نہ وثیقہ، نہ بیعانہ، نہ پٹوار

نہ ٹھیکیدار، نہ خسرہ، نہ انتقال

نہ پراپرٹی ٹیکس، نہ ڈیلر، نہ دلال

بس ایک ہی خطر

کبھی کبھی بد معاش کالا کوا

آ کے انڈے پی جاتا ہے

کاش معصوم چڑیاں بھی

اپنی حفاظت کے لیے

گن مین رکھ سکتیں


قیصر اقبال

No comments:

Post a Comment