پیڑ موسم اور ہواؤں کا گِلہ کرتے رہے
مشکلوں سے اپنے پتوں کو ہرا کرتے رہے
بادلوں نے اپنا پانی پی لیا، اور اڑ گئے
لوگ بیچارے تو بارش کی دعا کرتے رہے
آس نے اور یاس، نے آپس میں ایکا کر لیا
اور ہم جیسے، مقدر کا گِلہ کرتے رہے
ہم نے وہ بانٹا ہے جو پایا نہیں ہے عمر بھر
ہم وفاؤں کو ترس کر بھی وفا کرتے رہے
جانتے تھے دیکھتے ہی توڑ ڈالے گا ہمیں
آئینہ بن بن کے پھر بھی سامنا کرتے رہے
اس طرح بکھرا پڑا ہے رزق ان کے سامنے
رات بھر جیسے پرندے التجا کرتے رہے
اپنی نظروں میں اگرچہ تھا نہ کوئی بھی سوال
آسماں کو دیکھ کر اکثر صدا کرتے رہے
ہم نے سانپوں کو پلایا دودھ اپنی اوک سے
ہم بھلائی کے لیے تھے اور بھلا کرتے رہے
سخت شرمندہ ہوئے یوسف ہم اپنے آپ سے
آج جب سوچا کہ ساری عمر کیا کرتے رہے
یوسف مثالی
No comments:
Post a Comment