کشش جو ہوتی نہاں حرف اعتبار میں ہے
اسے سمجھنا بھلا کس کے اختیار میں ہے
دلِ و دماغ معطر تو کر گئی، لیکن
بلا کا درد چھپا مشکِ خوشگوار میں ہے
یہ راز کب سے نہاں ہے، سمجھ نہ آیا کبھی
عجب قرار و سکوں چشمِ انتظار میں ہے
بھٹکتی، سر کو پٹختی ہوئی صدائے غم
بتاؤں کیسے کہ وہ بھی مِرے حصار میں ہے
کوئی بھی اس کے مقابِل ٹھہر نہیں سکتا
جھلکتا عکسِ محبت جو چشمِ یار میں ہے
پِھر اٹھ رہے ہیں قدم، خود ہی جانبِ منزل
نجانے کب سے کوئی میرے انتظار میں ہے
اسی سے حشر بپا ہو بھی سکتا ہے، صادق
وہ ایک آہ، جو مظلوم کی پکار میں ہے
صادق باجوہ
No comments:
Post a Comment