نیا تصوف
میں سمندر کا صرف اک قطرہ ضرور ہوں
مگر سمندر سے نکالا ہوا یا نکلا ہوا قطرہ نہیں
سمندر میں موجود قطرہ ہوں
میں اپنے کل کا جزو تو ہوں
مگر ٹوٹا ہوا نہیں
اپنے کل سے جڑا ہوا جزو
اسی لیے تو
میری نظر میں
نہ موت وصال
نہ زندگی ہجر
یہ زندگی اور موت تو
بس میرے دن رات ہیں
ہنسنے رونے کے لیے
مرنے جینے کے لیے
سونے جاگنے کے لیے
ڈاکٹر سکینہ پنہاں
No comments:
Post a Comment