Wednesday, 16 March 2022

میں سمندر کا صرف اک قطرہ ضرور ہوں

 نیا تصوف


میں سمندر کا صرف اک قطرہ ضرور ہوں

مگر سمندر سے نکالا ہوا یا نکلا ہوا قطرہ نہیں

سمندر میں موجود قطرہ ہوں

میں اپنے کل کا جزو تو ہوں

مگر ٹوٹا ہوا نہیں

اپنے کل سے جڑا ہوا جزو

اسی لیے تو

میری نظر میں

نہ موت وصال

نہ زندگی ہجر

یہ زندگی اور موت تو

بس میرے دن رات ہیں

ہنسنے رونے کے لیے

مرنے جینے کے لیے

سونے جاگنے کے لیے


ڈاکٹر سکینہ پنہاں

No comments:

Post a Comment