ایک دعا میں ہے مِری، ایک مِری دعا ہے دوست
ایک تو تُو ہے باخدا، ایک مِرا خدا ہے دوست
شرم تو آئے گی اُسے، اُس کا دیا ہوا جو ہے
پوچھ رہا ہے زخم کا، دیکھ نہیں رہا ہے دوست
زخم دکھاؤں گا یا میں، زخم سناؤں گا تجھے
وقت بہت قلیل ہے، زخم بہت بڑا ہے دوست
تیر کہاں کہاں لگے، زخم بھرے نہیں بھرے
یار کو کیا نہیں پتہ، یار کو سب پتہ ہے دوست
اسامہ عندلیب
No comments:
Post a Comment