محبت مر نہیں سکتی
کسی نے یہ کہا اک دن
’محبت مر ہی جاتی ہے‘
نہیں، ایسا نہیں ہوتا
محبت مر نہیں سکتی
جو مر جائے حقیقت میں
محبت ہی نہیں ہوتی
دکھاوا ایک دنیا کا
ہوس انسان کی ہو گی
تبھی تو مر گئی ہو گی
محبت یہ نہیں صاحب
محبت زندگی اور موت سے
آزاد رشتہ ہے
سدا آباد رشتہ ہے
کوئی مر جائے بھی تو
یہ سدا آباد رہتا ہے
ہمیشہ زندگی و موت سے
آزاد رہتا ہے
محبت خود غرض لوگوں مٰیں
شاید مر چکی ہو گی
مِرے پیارو، کھرے یارو
کبھی دنیا و ما فیھا سے آگے بھی قدم رکھو
کبھی اس سے محبت کر کے دیکھو
جو نہیں مرتا
جو مرتا ہی نہیں
اس کی محبت کیسے مر جائے
تمہیں ہر گام اپنے پیار میں
کرتا امر جائے
محبت اس سے کرلو نا
ازل سے جو ابد تک ہے
تو پھر ابدی محبت
زندہ و جاوید ہو جائے
جہاں سے کوچ بھی کر جاؤ تو
وہ ساتھ چلتی ہے
محبت مر نہیں جاتی
خدا کے پاس پھلتی ہے
تبھی عامر کے ہونٹوں پر بھی
اس کی بات چلتی ہے
عامر حسنی
No comments:
Post a Comment