وہ آئینہ جو کبھی بن سنور کے دیکھتے ہیں
تو لوگ زاویے ان کی نظر کے دیکھتے ہیں
حد نگاہ ہی تک کیوں رہے ہماری نگاہ
حد نگاہ سے آگے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے عشق میں مرنے کا ہے مزا کچھ اور
یہ بات ہے تو چلو ہم بھی مر کے دیکھتے ہیں
انہیں طویل مسافت ڈرا بھی سکتی ہے
کہ فاصلے جو مسافر سفر کے دیکھتے ہیں
ہے بھائی بھائی سے بدظن، بہن بہن سے خفا
عجیب حال یہ ہم سارے گھر کے دیکھتے ہیں
کشش یہ چہرۂ خوباں پہ کیسی ہے صابر
کہ چلتے چلتے جنہیں سب ٹھہر کے دیکھتے ہیں
حلیم صابر
No comments:
Post a Comment