Sunday, 20 March 2022

وہ آئینہ جو کبھی بن سنور کے دیکھتے ہیں

 وہ آئینہ جو کبھی بن سنور کے دیکھتے ہیں

تو لوگ زاویے ان کی نظر کے دیکھتے ہیں

حد نگاہ ہی تک کیوں رہے ہماری نگاہ

حد نگاہ سے آگے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے عشق میں مرنے کا ہے مزا کچھ اور 

یہ بات ہے تو چلو ہم بھی مر کے دیکھتے ہیں

انہیں طویل مسافت ڈرا بھی سکتی ہے

کہ فاصلے جو مسافر سفر کے دیکھتے ہیں

ہے بھائی بھائی سے بدظن، بہن بہن سے خفا

عجیب حال یہ ہم سارے گھر کے دیکھتے ہیں

کشش یہ چہرۂ خوباں پہ کیسی ہے صابر

کہ چلتے چلتے جنہیں سب ٹھہر کے دیکھتے ہیں


حلیم صابر

No comments:

Post a Comment