Saturday, 19 March 2022

ہم نے میخانے کی تقدیس بچا لی ہوتی

 ہم نے مے خانے کی تقدیس بچا لی ہوتی

کوئی بوتل تو یہاں خون سے خالی ہوتی

اس کی بنیاد اگر زہد نے ڈالی ہوتی

دین کی طرح یہ دنیا بھی خیالی ہوتی

انجمن داغ جگر کی متحمل نہ ہوئی

کاش ہم نے بھی کوئی شمع جلا لی ہوتی

سچ تو یہ ہے کہا گر جرم نہ ثابت ہوتا

ہم نے خود مانگ کے جینے کی سزا لی ہوتی

آج اس موڑ پہ ہم ہیں کہ اگر بس چلتا

لوٹ جانے کی کوئی راہ نکالی ہوتی

تم نے قانون میں ترمیم کی زحمت کیوں کی

ہم نے خود قید کی معیاد بڑھا لی ہوتی

وسعت شوق نے رکھا نہ کہیں کا ہم کو

ورنہ ہر دل میں جگہ اپنی بنا لی ہوتی


اعزاز افضل

No comments:

Post a Comment