Saturday, 19 March 2022

مجھ میں انجانی سی الجھن ناچ رہی ہے

مجھ میں انجانی سی الجھن ناچ رہی ہے

جانے کس کی یاد میں دھڑکن ناچ رہی ہے

پِیا ملن کی آس میں جوگن ناچ رہی ہے

سُدھ بُدھ کھوئے جیسے ناگن ناچ رہی ہے

پورے چاند کی پاگل کر دینے والی رات

گوری کے تن من میں چھن چھن ناچ رہی ہے

لجّا کی جوالا میں جُھلسے پیاسا جوبن

بِرہا کی اگنی، کاڑھے پھن، ناچ رہی ہے

دریا کے اُس پار بسیرا ہے ساجن کا

موجوں کی صورت میں اڑچن ناچ رہی ہے

کس کی بیرن پرچھائی ہے آنکھوں میں ، جو

لمحہ لمحہ درپن درپن ناچ رہی ہے


یحییٰ خان یوسفزئی

No comments:

Post a Comment