مجھ میں انجانی سی الجھن ناچ رہی ہے
جانے کس کی یاد میں دھڑکن ناچ رہی ہے
پِیا ملن کی آس میں جوگن ناچ رہی ہے
سُدھ بُدھ کھوئے جیسے ناگن ناچ رہی ہے
پورے چاند کی پاگل کر دینے والی رات
گوری کے تن من میں چھن چھن ناچ رہی ہے
لجّا کی جوالا میں جُھلسے پیاسا جوبن
بِرہا کی اگنی، کاڑھے پھن، ناچ رہی ہے
دریا کے اُس پار بسیرا ہے ساجن کا
موجوں کی صورت میں اڑچن ناچ رہی ہے
کس کی بیرن پرچھائی ہے آنکھوں میں ، جو
لمحہ لمحہ درپن درپن ناچ رہی ہے
یحییٰ خان یوسفزئی
No comments:
Post a Comment