میری قسمت کی لکیروں میں ہے کیا میرے لیے
اے نجومی! تو بنا اک زائچہ میرے لیے
کھینچ ہی لائی اسے بھولے ہوئے گھر کی کشش
خوش ہیں سب دیوار و در وہ آ گیا میرے لیے
میں نے برسوں جو بنایا شاعری میں ڈھال کر
پیار کا ہے وہ گھروندہ خواب سا میرے لیے
غیر تھا وہ غیر ہے وہ غیر ہو گا عمر بھر
جیسے دنیا میں وہ آیا ہی نہ تھا میرے لیے
میرے گھر میں ہے گھٹن اور ہے بلا کاحبس بھی
بھیج اپنے شہر سے تازہ ہوا میرے لیے
میں اکیلی ہوں اکیلی ہوں اکیلی ہوں بہت
کوئی فرحت مجھ سا ہو شعر آشنا میرے لیے
فرزانہ فرحت
No comments:
Post a Comment