Friday, 18 March 2022

یہ کس کے ہاتھوں جلایا گیا چراغوں کو

 یہ کس کے ہاتھوں جلایا گیا چراغوں کو

کہ رستہ چھوڑ کے چلنا پڑا ہواؤں کو

ہوا کے ہاتھ پہ لاشے ہیں سوکھے پتوں کے

خزاں نے کر دیا پامال سب درختوں کو

فقیر وجد میں آیا تو سب نے توبہ کی

بشر ہی بننا پڑا شہر کے خداٶں کو

مباہلے کی روایت ہے اور حکم بھی ہے

میں اپنے ساتھ فقط لے کے جاؤں سچوں کو

پھر اندھے لوگوں کے ہاتھوں میں روشنی دے دی

یوں اب کی بار ڈرایا گیا اندھیروں کو

وہ ساری رات بھلا کیسے تجھ سے بات کرے

سکول چھوڑنے جانا ہو جس نے بچوں کو

پھر اس جگہ سے ہی سب دیکھتے ہیں دنیا میں

جہاں بنائے مصور تمہاری آنکھوں کو


مصور عباس

No comments:

Post a Comment