یہ کس کے ہاتھوں جلایا گیا چراغوں کو
کہ رستہ چھوڑ کے چلنا پڑا ہواؤں کو
ہوا کے ہاتھ پہ لاشے ہیں سوکھے پتوں کے
خزاں نے کر دیا پامال سب درختوں کو
فقیر وجد میں آیا تو سب نے توبہ کی
بشر ہی بننا پڑا شہر کے خداٶں کو
مباہلے کی روایت ہے اور حکم بھی ہے
میں اپنے ساتھ فقط لے کے جاؤں سچوں کو
پھر اندھے لوگوں کے ہاتھوں میں روشنی دے دی
یوں اب کی بار ڈرایا گیا اندھیروں کو
وہ ساری رات بھلا کیسے تجھ سے بات کرے
سکول چھوڑنے جانا ہو جس نے بچوں کو
پھر اس جگہ سے ہی سب دیکھتے ہیں دنیا میں
جہاں بنائے مصور تمہاری آنکھوں کو
مصور عباس
No comments:
Post a Comment