Thursday, 10 March 2022

ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ہیں ایسی آنکھیں

 ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ہیں ایسی آنکھیں

وہ مجھے جان سے بھی لگتی ہیں پیاری آنکھیں

لاکھ چلمن میں چھپا لو نہیں چھپنے والی

تیری جنت سے حسین راج دلاری آنکھیں

جس کو اک بار یہ دیکھیں اسے گھایل کردیں

ایسی آنکھیں ہیں تِری تیغ کی جیسی آنکھیں

جانِ من جانِ تمنا تجھے معلوم نہیں

رب نے فرصت میں تِری خوب سنواری آنکھیں

مرتضیٰ دیکھ کے جس چیز کو شب سوتا ہے

ہیں وہی نین وہی جان سے پیاری آنکھیں


مرتضٰی شاہین مندھرو

No comments:

Post a Comment