ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ہیں ایسی آنکھیں
وہ مجھے جان سے بھی لگتی ہیں پیاری آنکھیں
لاکھ چلمن میں چھپا لو نہیں چھپنے والی
تیری جنت سے حسین راج دلاری آنکھیں
جس کو اک بار یہ دیکھیں اسے گھایل کردیں
ایسی آنکھیں ہیں تِری تیغ کی جیسی آنکھیں
جانِ من جانِ تمنا تجھے معلوم نہیں
رب نے فرصت میں تِری خوب سنواری آنکھیں
مرتضیٰ دیکھ کے جس چیز کو شب سوتا ہے
ہیں وہی نین وہی جان سے پیاری آنکھیں
مرتضٰی شاہین مندھرو
No comments:
Post a Comment