ہو سکتا ہے رات کی رانی ہو سکتا ہے
چاند بھی کوئی یاد دھانی ہو سکتا ہے
میرا ہاتھ پکڑ کے وصل کے پار اتر
ہجر کی جھیل میں گہرا پانی ہو سکتا ہے
جیسے میرا دل ہے، تیرے سرخ گلاب
کسی کسی کا تیر نشانی ہو سکتا ہے
جس میں تم ہو، میں ہوں اور محبت ہے
یہ جینا کتنا بے معنی ہو سکتا ہے
عشقِ حقیقی والوں سے میں بہتر ہوں
جو کہتے ہیں عشق بھی فانی ہو سکتا ہے
تجھ کو ضد ہے پھولوں اور پرندوں سے
تُو اس شہر میں ظلم کا بانی ہو سکتا ہے
احمد عطاءاللہ
No comments:
Post a Comment