Friday, 18 March 2022

طلوع اشک طلوع ملال تھوڑی ہے

 طلوعِ اشک طلوعِ ملال تھوڑی ہے

اب ایسے حال میں جینا محال تھوڑی ہے

یہ تارِ فاقہ کشی ہے مہارِ تنگ دستی

تمہاری ریشمی زلفوں کا جال تھوڑی ہے

پرانے زخم مِری جان بھر گئے کب کے

تِرے فراق کا یہ پہلا سال تھوڑی ہے

میں تیرا جان دہندہ ہوں اور زندہ ہوں

کمال میرا ہے تیرا کمال تھوڑی ہے

تجھے رقیب کا غم ہے رقیب کو تیرا

ہمارے سر پہ یہی اک وبال تھوڑی ہے

بنا ہوا ہے سراپا جواب تُو، لیکن

ہمارے ہونٹوں پہ کوئی سوال تھوڑی ہے

ادب کے ساتھ خمیدہ سری کو وجد میں لا

سرائے عشق ہے جائے دھمال تھوڑی ہے


احمد شہباز

No comments:

Post a Comment