Friday, 18 March 2022

اپنی انا کے ساتھ یہ سودا کروں نہ میں

اپنی انا کے ساتھ یہ سودا کروں نہ میں

جاتا ہے جب وہ چھوڑ کے روکا کروں نہ میں

گر جان لے زمانہ کے خوابوں میں آتے ہو

صادر کرے گا حکم کہ سویا کروں نہ میں

اپنے وجود کو بھی نہ پاؤں جہان میں

اس طرح تیری یاد میں کھویا کروں نہ میں

فرقت کا ہے تقاضا کے آنکھیں یہ نم رہیں

اور ضبط کہہ رہا ہے کہ رویا کروں نہ میں

گہرے ہی ہوتے جائیں گے جو داغ دل پہ ہیں

اشکوں سے اپنے گر انہیں دھویا کروں نہ میں


مسکان ریاض

No comments:

Post a Comment