اپنی انا کے ساتھ یہ سودا کروں نہ میں
جاتا ہے جب وہ چھوڑ کے روکا کروں نہ میں
گر جان لے زمانہ کے خوابوں میں آتے ہو
صادر کرے گا حکم کہ سویا کروں نہ میں
اپنے وجود کو بھی نہ پاؤں جہان میں
اس طرح تیری یاد میں کھویا کروں نہ میں
فرقت کا ہے تقاضا کے آنکھیں یہ نم رہیں
اور ضبط کہہ رہا ہے کہ رویا کروں نہ میں
گہرے ہی ہوتے جائیں گے جو داغ دل پہ ہیں
اشکوں سے اپنے گر انہیں دھویا کروں نہ میں
مسکان ریاض
No comments:
Post a Comment