Monday, 14 March 2022

رنگ یہ ہے اب ہمارے عشق کی تاثیر کا

 رنگ یہ ہے اب ہمارے عشق کی تاثیر کا 

حسن آئینہ بنا ہے درد کی تصویر کا 

ایک عرصہ ہو گیا فرہاد کو گزرے ہوئے 

آؤ پھر تازہ کریں افسانہ جوئے شیر کا 

گلستاں کا ذرہ ذرہ جاگ اٹھے عندلیب 

لطف ہے اس وقت تیرے نالۂ شبگیر کا 

لیجئے اے شیخ! پہلے اپنے ایماں کی خبر 

دیجئے پھر شوق سے فتویٰ مِری تکفیر کا 

خواب ہستی کو سمجھنے کیلئے بے چین ہوں 

اعتبار آتا نہیں مجھ کو کسی تعبیر کا 

جس نے دی آخر غرور حسن یوسف کو شکست 

ﷲ، ﷲ، حوصلہ اس دست دامن گیر کا 

توڑ کر نکلے قفس تو گم تھی راہ آشیاں 

وہ عمل تدبیر کا تھا یہ عمل تقدیر کا 

گو زمانہ ہو گیا گلزار سے نکلے ہوئے 

ہے مزاج اب تک وہی ریحانئ دلگیر کا 


ہینسن ریحانی

No comments:

Post a Comment