رنگ یہ ہے اب ہمارے عشق کی تاثیر کا
حسن آئینہ بنا ہے درد کی تصویر کا
ایک عرصہ ہو گیا فرہاد کو گزرے ہوئے
آؤ پھر تازہ کریں افسانہ جوئے شیر کا
گلستاں کا ذرہ ذرہ جاگ اٹھے عندلیب
لطف ہے اس وقت تیرے نالۂ شبگیر کا
لیجئے اے شیخ! پہلے اپنے ایماں کی خبر
دیجئے پھر شوق سے فتویٰ مِری تکفیر کا
خواب ہستی کو سمجھنے کیلئے بے چین ہوں
اعتبار آتا نہیں مجھ کو کسی تعبیر کا
جس نے دی آخر غرور حسن یوسف کو شکست
ﷲ، ﷲ، حوصلہ اس دست دامن گیر کا
توڑ کر نکلے قفس تو گم تھی راہ آشیاں
وہ عمل تدبیر کا تھا یہ عمل تقدیر کا
گو زمانہ ہو گیا گلزار سے نکلے ہوئے
ہے مزاج اب تک وہی ریحانئ دلگیر کا
ہینسن ریحانی
No comments:
Post a Comment