Monday, 14 March 2022

انتظار کی خوابیدہ آنکھیں

 مجھے ڈر ہے

کہ نہ کچلیں جائیں

تمہارے قدموں تلے آ کر

نہ روندیں جائیں

تمہاری چوکھٹ پہ

رکھ آئی ہوں

اپنے انتظار کی خوابیدہ آنکھیں


لبنیٰ غزل

No comments:

Post a Comment