Thursday, 17 March 2022

ناگہاں درد محبت کا بیاں ہو جانا

ناگہاں دردِ محبت کا بیاں ہو جانا

کیا غضب ہے مِرے اشکوں کا زباں ہو جانا

برق گرتی ہے نشیمن پر تو پروا کیا ہے

اپنا شیوہ نہیں سر گرمِ فغاں ہو جانا

کوئی کیا جانے کہ بے وجہ فروغِ ہستی

آتشِ عشق کا رگ رگ میں نہاں ہو جانا

دہر میں قیمتِ انساں نہ گرا دے اک دن

اس قدر جنسِ محبت کا گراں ہو جانا

جادۂ عشق کی اک یہ بھی حسیں منزل ہے

اپنے اوپر کسی دلبر کا گماں ہو جانا

سوزِ کامل کا تقاضا تو یہ ہے پروانو

اپنی ہی آگ میں خود شعلہ بجاں ہو جانا

مژدہ اک تازہ بہار آنے کا ریحانی

صحنِ گلزار کا یوں نذرِ خزاں ہو جانا


ہینسن ریحانی

No comments:

Post a Comment