Friday, 18 March 2022

لے چلو قصہ خوانی کے بازار میں

 دلیپ کمار کی آخری خواہش


لے چلو دوستو

لے چلو قصہ خوانی کے بازار میں

اس محلے خداداد کی اک شکستہ گلی کے مُقفل مکاں میں

کہ بالائی زینوں کے مرقد کنویں کی زمیں چاٹتی پیاس کو 

دیکھ کر اپنی تشنہ لبی بھول جاؤں

غُٹر غُوں کی آواز ڈربوں سے آتی ہوئی سن کے 

اپنے کبوتر اُڑا کے سسکتی ہوئی یاد کو پھر بلاؤں

کسی باغ سے خشک میووں کی سوغات لے کر صدائیں لگاؤں

زبانوں کے روغن کو زیتون کے ذائقے سے ملاؤں

جمی سردیوں میں گلی کے اسی تخت پہ 

نرم کرنوں سے چہرے پہ سُرخی سجاؤں

کہ یاروں کی ان ٹولیوں میں نئی داستانیں سناؤں

اُنھی پان دانوں سے لالی چُراؤں، کہیں بھاگ جاؤں

مجھے ان پرانی سی راہوں میں پھر لے چلو دوستو

ہاں

مجھے لے چلو اس بسنتی، دُلاری، مدھو کی گلی میں

کہ آنکھوں کی وہ روشنی 

آج بھی میرے خوابوں کی زرتاب تعبیر ٹھہری

کہ کانوں میں اس کے ترنم کی گھنٹی

صحیفوں کی صورت اتاری گئی ہے

حسیں وادیوں میں کسی قہوہ خانے کے بنچوں پہ تازہ کئی وارداتیں

اُمڈتے ہوئے صوت و آہنگ کے 

دلکش حسیں زمزموں کے تلاطم میں رقصاں کئی اپسرائیں

سبھی کو بلاؤ کہ نغمہ سرائی کا یہ مرحلہ آخری ہے

بلاؤ مِرے راج(راج کپور) کو

آخری شب ہے پھر سے حسینوں کے جُھرمٹ میں 

بس آخری گُھونٹ پی کے

فنا گھاٹیوں میں

میں یوں پھیل جاؤں کہ واپس نہ آؤں

سُنو دوستو و و و و و 


عرفان شہود

No comments:

Post a Comment