ہم کہاں راستہ بدلتے ہیں؟
ہم تو وہ ہیں جو ساتھ چلتے ہیں
ایسے پھولوں سے خون رِستا ہے
چُھو لیں شبنم تو ہاتھ جلتے ہیں
ان کی آنکھوں میں اشک کیا دیکھیں
جن کے دامن میں درد پلتے ہیں
دلوں میں جن کے تصور بسے محبت کا
ہمیشہ ان کی بقاء کے چراغ جلتے ہیں
نیلما تصور
No comments:
Post a Comment