کسی چراغ کی لو رات نے سنبھالی نہیں
تو روشنی نے کوئی صبح بھی اجالی نہیں
جہاں پہ ابرِ رواں کا بتا کے لائے ہو
وہاں تو پیڑ کی چھاؤں بھی ملنے والی نہیں
نجانے کیا ہوا یوں ہی مکان بیچ دیا
دراز سے تِری تصویر بھی نکالی نہیں
زمین چھوڑ کے آؤں تو کس جگہ آؤں
کہیں سے بھی تو تِرا آسمان خالی نہیں
نجانے کس لیے اب وہ سروں پہ گھومتی ہے
جو خاک پیروں سے ہم نے کبھی اچھالی نہیں
احسان گھمن
No comments:
Post a Comment