Friday, 18 March 2022

کسی چراغ کی لو رات نے سنبھالی نہیں

 کسی چراغ کی لو رات نے سنبھالی نہیں

تو روشنی نے کوئی صبح بھی اجالی نہیں

جہاں پہ ابرِ رواں کا بتا کے لائے ہو

وہاں تو پیڑ کی چھاؤں بھی ملنے والی نہیں

نجانے کیا ہوا یوں ہی مکان بیچ دیا

دراز سے تِری تصویر بھی نکالی نہیں

زمین چھوڑ کے آؤں تو کس جگہ آؤں

کہیں سے بھی تو تِرا آسمان خالی نہیں

نجانے کس لیے اب وہ سروں پہ گھومتی ہے

جو خاک پیروں سے ہم نے کبھی اچھالی نہیں


احسان گھمن

No comments:

Post a Comment