غم کے اندھیرے چھانٹنے چندا بھی آئے گا
آنسو سنبھالنے میرے دریا بھی آئے گا
رہتا نہیں ہے کوئی بھی گھٹنوں کے بل سدا
اے طفل! تجھ کو جلد ہی چلنا بھی آئے گا
کاٹے گا سر جو ظلم کا جو حق کرے گا عام
کوئی تو رہنما کبھی ایسا بھی آئے گا
ہیں وقت کے مزاج میں تبدیلیاں جناب
ہے آج یہ بُرا تو کل اچھا بھی آئے گا
خاموشیاں ستائیں گی مسکان! جس گھڑی
پھر یاد اس کو یہ میرا شکوہ بھی آئے گا
مسکان ریاض
No comments:
Post a Comment