Thursday, 17 March 2022

غم کے اندھیرے چھانٹنے چندا بھی آئے گا

 غم کے اندھیرے چھانٹنے چندا بھی آئے گا

آنسو سنبھالنے میرے دریا بھی آئے گا

رہتا نہیں ہے کوئی بھی گھٹنوں کے بل سدا

اے طفل! تجھ کو جلد ہی چلنا بھی آئے گا

کاٹے گا سر جو ظلم کا جو حق کرے گا عام

کوئی تو رہنما کبھی ایسا بھی آئے گا

ہیں وقت کے مزاج میں تبدیلیاں جناب

ہے آج یہ بُرا تو کل اچھا بھی آئے گا

خاموشیاں ستائیں گی مسکان! جس گھڑی

پھر یاد اس کو یہ میرا شکوہ بھی آئے گا


مسکان ریاض

No comments:

Post a Comment