Thursday, 17 March 2022

آؤ کچھ گردش تقدیر کا شکوہ کر لیں

 آؤ کچھ گردش تقدیر کا شکوہ کر لیں

جس سے محروم رہے اس کی تمنا کر لیں

جس طرف دیکھیے آئینے ہی آئینے ہیں

اپنی صورت کا بصد رنگ تماشا کر لیں

حسن مجبور ہے خود جلوہ نمائی پہ مگر

مصلحت یہ ہے کہ کچھ ہم بھی تقاضا کر لیں

نونہالان چمن تشنہ نہ ہو جائیں کہیں

آؤ کچھ خون جگر اور مہیا کر لیں

جیب و داماں میں ابھی فاصلہ کچھ باقی ہے

منتیں آپ کی ہم حضرت عیسیٰ کر لیں

گل کی رگ رگ میں نظر آئے گا مالی کا لہو

وا اگر اہل نظر دیدۂ بینا کر لیں

بات عرشی کی نظر آتی ہے گر اتھلی سی

امتحان اس کا نہ کیوں قبلہ و کعبہ کر لیں


امتیاز علی عرشی

No comments:

Post a Comment