Thursday, 17 March 2022

خلش نہاں کی وہ لذتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں

 خلش نہاں کی وہ لذتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں

وہ نفس نفس میں قیامتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں

کبھی قربتوں میں یہ دوریاں کہ زبان دل کی نہ کہہ سکے

کبھی دوریوں میں بھی قربتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں

وہ جنون شوق کی مستیاں وہ نیاز و ناز کی گرمیاں

وہ نظر نظر میں حکایتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں

کبھی شکوہائے عتاب میں بھی ہزار شکر کی جھلکیاں

کبھی شکر میں بھی شکایتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں

وہ تمہارا شارق بے نوا کہ نہیں ہے جس کا کوئی یہاں

وہ وفا کی اس کی حکایتیں تمہیں یاد ہوں کہ نہ یاد ہوں


شارق میرٹھی

No comments:

Post a Comment