اب کے بار موسم نے
بارشوں کو اوڑھا ہے
سردیوں کی آمد نے
بادلوں سے مل کر یوں
روشنی کو ڈھالا ہے
ملجگے اندھیرے میں
رنگ گہرے کر ڈالے
آنکھ کو لبھایا ہے
منظروں کی حدّت کو
چھو لیا یوں نرمی سے
ہر تپش مٹا ڈالی
بوند بوند پانی نے
خوشبوئیں ہیں مٹی میں
راستے دھلے سے ہیں
پیڑ بھیگے بھیگے ہیں
کائنات میں ہر سو
نرمیاں سی چھائی ہیں
خواہشیں جگائی ہیں
دل پہ ساحری کی ہے
چھو لیا حواسوں کو
میرے سب خیالوں کو
مرکزی حوالوں کو
ڈھیر سے سوالوں کو
آہنی سے جالوں کو
آج پہلی بارش نے
ہلکی ہلکی خنکی میں
اس طرح لپیٹا ہے
جیسے پھول بھیگے ہوں
بھینی بھینی خوشبو ہو
لمس کوئی من چاہا
پور پور چھو جائے
من یہ بول اٹھا ہے
ہلکی ہلکی خنکی میں
گرنے والی بوندوں میں
جیسے جادو ہوتا ہے
سردیوں کی بارش بھی
ایک لمس رکھتی ہے
جو کہ روح کو چھوتا ہے
ماوٰی سلطان
No comments:
Post a Comment