Tuesday, 22 March 2022

اب کے بار موسم نے بارشوں کو اوڑھا ہے

 اب کے بار موسم نے 

بارشوں کو اوڑھا ہے 

سردیوں کی آمد نے

بادلوں سے مل کر یوں

روشنی کو ڈھالا ہے 

ملجگے اندھیرے میں

رنگ گہرے کر ڈالے 

آنکھ کو لبھایا ہے

منظروں کی حدّت کو

چھو لیا یوں نرمی سے

ہر تپش مٹا ڈالی 

بوند بوند پانی نے

خوشبوئیں ہیں مٹی میں

راستے دھلے سے ہیں

پیڑ بھیگے بھیگے ہیں

کائنات میں ہر سو

نرمیاں سی چھائی ہیں

خواہشیں جگائی ہیں 

دل پہ ساحری کی ہے 

چھو لیا حواسوں کو

میرے سب خیالوں کو

مرکزی حوالوں کو

ڈھیر سے سوالوں کو 

آہنی سے جالوں کو 

آج پہلی بارش نے

ہلکی ہلکی خنکی میں 

اس طرح لپیٹا ہے

جیسے پھول بھیگے ہوں

بھینی بھینی خوشبو ہو

لمس کوئی من چاہا

پور پور چھو جائے

من یہ بول اٹھا ہے 

ہلکی ہلکی خنکی میں

گرنے والی بوندوں میں

جیسے جادو ہوتا ہے

سردیوں کی بارش بھی

ایک لمس رکھتی ہے

جو کہ روح کو چھوتا ہے


ماوٰی سلطان

No comments:

Post a Comment