Tuesday, 8 March 2022

بہار زیست یقیناً ہرے شجر سے ہے

بہارِ زیست یقیناً، ہرے شجر سے ہے

ہر ایک خلق پہ جوبن، ہرے شجر سے ہے

یہ پُھول، کلیاں، چنبیلی، یہ یٰسمین و گُلاب

انہیں جو بخشا گیا تن، ہرے شجر سے ہے

خزاں بہار ہو، گرما، یا موسمِ سرما

مگر زمین کا درشن، ہرے شجر سے ہے

بتا رہے ہیں گھنے پیڑ پر بنے جُھولے

ہمارا گُزرا وہ بچپن، ہرے شجر سے ہے

شجر کے کاٹنے والے، ذرا خیال رہے

حسیں پرندوں کا جیون، ہرے شجر سے ہے


سمیع اللہ صارم

No comments:

Post a Comment