Tuesday, 8 March 2022

زمین دیکھی زماں دیکھا ہے اور نا کوئی در دیکھا

 زمین دیکھی، زماں دیکھا ہے اور نا کوئی در دیکھا

جہاں دل کو یقین آیا وہیں سجدے میں سر دیکھا

نہیں میں جانتا ہی تھا سمندر کس کو کہتے ہیں

سُنا جب نقط دانوں کو تو بوندوں میں، بحردیکھا 

گراتا ہے چٹانوں کو کبھی یہ شیشۂ دل بھی

محبت کی دعاؤں میں اثر کچھ اس قدر دیکھا

جو ہو عہدِ وفا تو پھر گلے شکوے کہاں ہوں گے

جہاں ہو مصلحت زیادہ تو رشتہ مختصر دیکھا

فقط باتیں سہارہ بن نہیں سکتیں یہاں ہرگز

جو ٹکراتا ہے باطل سے اسی میں ہے اثر دیکھا

سنا جب شورِ قاتل تب ہی جاگا نیند سے سعید

کھلی جب آنکھ اپنوں کو ہی دیکھا اور نہ گھر دیکھا

 

سعید احمد

No comments:

Post a Comment