Tuesday, 8 March 2022

ایک لڑکی تھی مرا بستہ پکڑ کے

 ایک لڑکی تھی

مِرا بستہ پکڑ کے

اور دروازے کے پیچھے

کھینچ کر مجھ کو

مِرے بستے سے اس نے

گاچنی مٹی چُرائی تھی

کتر کے دانت سے مٹی

وہ مسکرائی تھی

مِرے گالوں پہ

بوسہ لے کے بولی تھی

مجھے دے دے یہ مٹی

مجھ کو تختی پوت کر

ایک نام لکھنا ہے

وہ کوئی حاملہ ہو گی

ماں نے مجھے بتایا تھا

میں شاید چھ برس کا تھا

میں اب چھپن برس کا ہوں

میں بھی اب حاملہ ہوں

یاد سے اس کی

وہ لڑکی اب بھی

مجھ کو یاد آتی ہے


گلزار

No comments:

Post a Comment