Tuesday, 8 March 2022

نغمے ہوا نے چھیڑے فطرت کی بانسری میں

 نغمے ہوا نے چھیڑے فطرت کی بانسری میں

پیدا ہوئیں زبانیں جنگل کی خامشی میں

اس وقت کی اداسی ہے دیکھنے کے قابل

جب کوئی رو رہا ہو افسردہ چاندنی میں

کچھ تو لطیف ہوتیں گھڑیاں مصیبتوں کی

تم ایک دن تو ملتے دو دن کی زندگی میں

ہنگامۂ تبسّم ہے میری ہر خموشی میں

تم مسکرا رہے ہو دل کی شگفتگی میں

خالی پڑے ہوئے ہیں پھولوں کے ہر صحیفے

رازِ چمن نہاں ہے کلیوں کی خامشی میں


ساغر نظامی

No comments:

Post a Comment