Wednesday, 16 March 2022

عشق ہے کوئی شب گزاری نہیں

 عشق ہے کوئی شب گزاری نہیں

عشق ہے کوئی شب گزاری نہیں 

چوٹ دل پر ہے اور کاری نہیں 

خواب سوچا ہے، خواب دیکھا نہیں 

آنکھ جھپکی ہے، آنکھ ماری نہیں 

میں بھی بس واجبی سا لڑکا ہوں 

خیر ہے تو بھی اتنی پیاری نہیں

مت غلط داد دیجیۓ صاحب

شاعری ہے یہ رشتہ داری نہیں

میں نے بھی غیر سے نبھاہ کیا

حوصلہ خیر وہ بھی ہاری نہیں


احمد زوہیب

No comments:

Post a Comment