عشق ہے کوئی شب گزاری نہیں
عشق ہے کوئی شب گزاری نہیں
چوٹ دل پر ہے اور کاری نہیں
خواب سوچا ہے، خواب دیکھا نہیں
آنکھ جھپکی ہے، آنکھ ماری نہیں
میں بھی بس واجبی سا لڑکا ہوں
خیر ہے تو بھی اتنی پیاری نہیں
مت غلط داد دیجیۓ صاحب
شاعری ہے یہ رشتہ داری نہیں
میں نے بھی غیر سے نبھاہ کیا
حوصلہ خیر وہ بھی ہاری نہیں
احمد زوہیب
No comments:
Post a Comment