Wednesday, 16 March 2022

دشت میں جو بھی ہے جیسا مرا دیکھا ہوا ہے

 دشت میں جو بھی ہے جیسا مِرا دیکھا ہوا ہے

راستہ اس کے سفر کا مرا دیکھا ہوا ہے

کس لیے چیختا چنگھاڑتا رہتا ہے بہت

موج در موج یہ دریا مرا دیکھا ہوا ہے

وقت کے ساتھ جو تبدیل ہوا کرتا ہے

آئینہ آئینہ چہرا مرا دیکھا ہوا ہے

کس طرح تجھ کو یہ بتلاؤں ہوا کے جھونکے

ریت پر لکھا ہے کیا کیا مرا دیکھا ہوا ہے

کس جگہ کون گڑا ہے مجھے معلوم ہے سب

اس ترے شہر کا نقشہ مرا دیکھا ہوا ہے

رات کے بعد سحر ہوتی ہے روشن تنویر

ہے اندھیرے میں اجالا مرا دیکھا ہوا ہے


تنویر سامانی

No comments:

Post a Comment