لے کے دلاسا دے کے دلاسا لوٹ آیا
میں پیاسوں میں جا کے پیاسا لوٹ آیا
خود کو میں نے بانٹ دیا سب رشتوں میں
اپنے آپ میں صرف ذرا سا لوٹ آیا
دھن والوں کے ظرف کو دیکھا غربت نے
ہر سُو گھوم کے خالی کاسا لوٹ آیا
دل کا روشن پہلو حسن کو دان ہوا
آئینے کا اُلٹا پاسا لوٹ آیا
زحل پہ پہنچا خون پسینہ دھرتی کا
مٹی لے کر واپس ناسا لوٹ آیا
کابل زادوں کا تھا خوف شکاری کو
چھوڑ کے چاقو پھندہ لاسا لوٹ آیا
راز یقیناً آس ہے سیڑھی منزل کی
آسا پہنچا اور نراسا لوٹ آیا
قاسم راز
No comments:
Post a Comment