Friday, 4 March 2022

لے کے دلاسا دے کے دلاسا لوٹ آیا

لے کے دلاسا دے کے دلاسا لوٹ آیا

میں پیاسوں میں جا کے پیاسا لوٹ آیا

خود کو میں نے بانٹ دیا سب رشتوں میں

اپنے آپ میں صرف ذرا سا لوٹ آیا

دھن والوں کے ظرف کو دیکھا غربت نے

ہر سُو گھوم کے خالی کاسا لوٹ آیا

دل کا روشن پہلو حسن کو دان ہوا

آئینے کا اُلٹا پاسا لوٹ آیا

زحل پہ پہنچا خون پسینہ دھرتی کا

مٹی لے کر واپس ناسا لوٹ آیا

کابل زادوں کا تھا خوف شکاری کو

چھوڑ کے چاقو پھندہ لاسا لوٹ آیا

راز یقیناً آس ہے سیڑھی منزل کی

آسا پہنچا اور نراسا لوٹ آیا


قاسم راز

No comments:

Post a Comment