Monday, 14 March 2022

پھر آس پاس سے دل ہو چلا ہے میرا اداس

 پھر آس پاس سے دل ہو چلا ہے میرا اداس

پھر ایک جام کہ برجا ہوں جس سے ہوش حواس

ہزار رنگ سہی پر نہیں ذرا بو باس

ہوائے صحن چمن ہم کو آئے کیسے راس

ستارے اب بھی چمکتے ہیں آسماں پہ مگر

نہیں ہیں شومئ قسمت سے ہم ستارہ شناس

کھلے ہیں پھول ہزاروں چمن کے دامن پر

نوا گران چمن کو مگر نہیں احساس

دل و جگر میں مروت سے پڑ گئے ناسور

ہمیں نہیں ہے مگر اس کے پھل سے پھر بھی یاس

گھرے ہوئے ہیں اگر برق و باد و باراں میں

تو کیا ہوا کہ کنارے کی ہے ابھی تک آس

جنوں کو اپنے چھپائیں تو کس طرح یارو

کہ تار تار ہے اس شغل پاک کا عکاس

جو بے وفائی گل سے شکستہ خاطر ہو

اسے بتاؤ کہ ہے باوفا تر اس سے گھاس

میں اس شراب محبت سے تنگ ہوں عرشی

کہ جتنا پیجیے بڑھتی ہے اور اتنی پیاس


امتیاز علی عرشی

No comments:

Post a Comment