Monday, 14 March 2022

دور رہ بھی نہ سکوں پاس بلا بھی نہ سکوں

 دور رہ بھی نہ سکوں پاس بلا بھی نہ سکوں

تُو وہ اپنا ہے جسے اپنا بنا بھی نہ سکوں

اے مسیحا! کوئی تدبیر مسیحائی کی کر

زخم ایسا ہے کہ ہر اک کو دکھا بھی نہ سکوں

حسن کی اور تب و تاب بڑھا دیتا ہے

میں تو اس تل کا کبھی مول چکا بھی نہ سکوں

عمر کے آخری نکڑ پہ ملاقات کا دکھ

یوں ملا ہے کہ تِرے ناز اٹھا بھی نہ سکوں

اس قدر تلخ رویہ تو مِرے ساتھ نہ رکھ

زندگی میں تجھے سینے سے لگا بھی نہ سکوں

وہ تعلق کو عجب موڑ پہ لے آیا ہے

ساتھ چل بھی نہ سکوں چھوڑ کے جا بھی نہ سکوں


سلیم فوز

No comments:

Post a Comment