Monday, 14 March 2022

محبت میں کمی سی رہ گئی ہے

 محبت میں کمی سی رہ گئی ہے

کہ بس اک بے بسی سی رہ گئی ہے

نہ جانے کیوں ہمارے درمیاں اب

فقط اک برہمی سی رہ گئی ہے

عجب یہ سانحہ گزرا ہے ہم پر

تِرے غم کی خوشی سی رہ گئی ہے

سمندر کتنے آنکھوں میں اتارے

تو پھر کیوں تشنگی سی رہ گئی ہے

نہیں چڑھتا ہے اب یادوں کا دریا

مگر اک بے کلی سی رہ گئی ہے

خلش دل میں کوئی باقی ہے اب تک

کہ آنکھوں میں نمی سی رہ گئی ہے

وہی اک بات جو کہنی تھی تم سے

وہی تو ان کہی سی رہ گئی ہے


نزہت عباسی

No comments:

Post a Comment