دو سالوں کے سنگم پر میں
جانے کیا کیا سوچ رہا ہوں
پچھلے سال بھی ایسی ہی اک
سرد دسمبر کی شب تھی جب
دو سالوں کے سنگم پر میں
جانے کیا کیا سوچ رہا تھا
سوچ رہا تھا وقت کا پنچھی
ماہ و سال کے پنکھ لگا کر
اپنی ایک مخصوص ڈگر پر
اڑتا ہے
دو سالوں کے سنگم پر میں
بیتی باتیں یاد کروں تو
ڈرتا ہوں
ڈرتا ہوں کہ جانے والے سال کا سورج
آنے والے سال کے پہلے سورج کو
اپنے تن کی ساری حدت بخش نہ دے
ڈرتا ہوں کہ
آنے والا موسم بھی
جانے والی زرد رتوں کا عکس نہ ہو
موسم گل کی صورت کے برعکس نہ ہو
صحنِ چمن میں شعلوں ہی کا رقص نہ ہو
ازہر درانی
No comments:
Post a Comment