Tuesday, 15 March 2022

سوچ رہا تھا وقت کا پنچھی

 دو سالوں کے سنگم پر میں 

جانے کیا کیا سوچ رہا ہوں 

پچھلے سال بھی ایسی ہی اک

سرد  دسمبر کی شب تھی جب

دو سالوں کے سنگم پر میں 

جانے کیا کیا سوچ رہا تھا

سوچ رہا تھا وقت کا پنچھی 

ماہ و سال کے پنکھ لگا کر 

اپنی ایک مخصوص ڈگر پر

اڑتا ہے

دو سالوں کے سنگم پر میں 

بیتی باتیں یاد کروں تو

ڈرتا ہوں 

ڈرتا ہوں کہ جانے والے سال کا سورج 

آنے والے سال کے پہلے سورج کو 

اپنے تن کی ساری حدت بخش نہ دے

ڈرتا ہوں کہ

آنے والا موسم بھی

جانے والی زرد رتوں کا عکس نہ ہو

موسم گل کی صورت کے برعکس نہ ہو

صحنِ چمن میں شعلوں ہی کا رقص نہ ہو


ازہر درانی

No comments:

Post a Comment