Tuesday, 15 March 2022

دھڑکنیں بن کے جو سینے میں رہا کرتا تھا

 دھڑکنیں بن کے جو سینے میں رہا کرتا تھا

کیا عجب شخص تھا جو مجھ میں جیا کرتا تھا

ناخن وقت نے ہر نقش کھرچ ڈالا ہے

میرا چہرہ مِری پہچان ہوا کرتا تھا

کائی ہونٹوں پہ ہمہ وقت جمی رہتی تھی

ایک دریا مِری آنکھوں میں تھما کرتا تھا

ذہن و دل اس لیے سرگرم عمل رہتے تھے

رہنمائی مِری ہر وقت خدا کرتا تھا

آبلہ پائیاں کرتی تھیں اگر دل شکنی

حوصلہ پھر رہِ امید کو وا کرتا تھا

ہو گیا نذر بالآخر مِری حق گوئی کی

ایک سر جو کبھی شانوں پہ سجا کرتا تھا

کیا ہوا آج اے سالم! وہ شعور بالغ

جو قلم زد تِری تحریر کیا کرتا تھا


سالم شجاع انصاری

No comments:

Post a Comment