بچھڑا ہوا دن
اگر وہ رات تھی تو
دن کہاں تھا ؟
چاند کے ہونٹوں پہ
اک پیاری سی ہلکی مسکراہٹ تھی
ستاروں کی چمک ایسی تھی
جیسے جھیل کا پانی
کرن سے کھیلتا ہو
اور صراحی دار گردن میں
پڑی مالا میں ہنستے
موتیوں کی اجلی رعنائی کو
دعوت دیتے
کچھ سیمیں بدن سے خواب تھے
جو آنکھ کی دہلیز پر
خاموش بیٹھے تھے
ہواؤں میں بسی خوشبو
کچھ ایسے ان کہے اور ان سنے
انجان اور غم ناک قصے
کہہ رہی تھی
جو مِرے دل میں تجھے تصویر کرتے تھے
نہ جانے کیوں
وہ ہر اس خواب کو تعبیر کرتے تھے
جنہیں اب تک جگہ دی ہی نہیں
آنکھوں نے میری اپنی دنیا میں
اداسی اشک بن کر
شب کی پلکوں پر چمکتی تھی
یہ سب کچھ خوبصورت تھا
مگر پھر بھی
تحیر ڈوبتی آواز میں
سرگوشی کرتا تھا
تمہارا دن کہاں ہے
اور اداسی سے یہ کہتا تھا
کہ تم یہ جانتی ہو نا
ہو چاہے جتنی بھی دلکش
مگر یہ رات، تو پھر رات ہے
اِک بار اگر آ جائے جیون میں
تو پھر جاتی نہیں ہے
دن کا رستہ روک لیتی ہے
حمیرا راحت
No comments:
Post a Comment